قید ِ تنہائی سے باہر کبھی لائے ہائے

(اشرف جاوید ملک)

قید ِ تنہائی سے باہر کبھی لائے ہائے !
کوئی ایسا ہو مجھے صبر دلائے ہائے !

میری آواز تیرا لہجہ پہن کر ُابھرے
میرا سایہ ہی میرے سامنے آئے ہائے !

اک ُبتِ ساکت و بے جان گریزاں خود سے
دل یوں گھبرائے کہیں چین نہ پائے ہائے !

رنج و وحشت کا سماں دانت نکوسےہوئے غم
کون ایسے میں بھلا ہاتھ ملائے ؟ ہائے !

یہ کرونا کی وبا ہے یا بلا ہے کیا ہے؟
گھر سے نکلے جو کوئی اس کو یہ کھائے ہائے !

بانٹتی پھرتی ہے جو موت ہر اک کوچے میں
اس کرونا کو کہیں موت ہی آئے ہائے !

گھر سے باہر نہیں نکلے نہ ہی کھیلےاشرف
میرے بچوں نے بہت رنج اٹھائے ہائے!

Comments are closed.