نیا جنم

(سہل شعیب ہمام)

وبا ہے کہ جیسے خزاں کی کوئ رت
یہ انساں ہیں جیسے کسی شاخ سے ٹوٹے پتے
دھڑا دھڑ جو مرکز سے بنیاد سے کٹ رہے ہیں
کہ اپنی لگائ ہوئ آگ میں مٹ رہے ہیں
انہیں کیسی لاحق ہے مرنے کی عجلت
کسی کو نہ رسم تیمار داری کی فرصت نہ ہمت
نہ آنسو بہانے نہ گریہ کی مہلت
نہ چیخیں نہ آہیں نہ ماتم ،فلک چیرتے بَین
باقی ہے بس حسرتِ تعزیت
نہ تو مڑ کے دیکھا نہ مانگی اجازت
ہر اک شہر میں جاری رسم کفن پوشیاں ہیں
نہ مذہب نہ فرقہ نہ گورے نہ کالے کی کوئ رعایت
یہ کیسی ہوا چل پڑی
سارے بت ٹوٹتے جا رہے ہیں
کہ پت جھڑ میں ٹوٹے ہوۓ پتے بس خود تو مٹ جاتے ہیں
پر زمیں کے لیے زندگی
ہر شجر کو نئ کونپلوں کی بشارت بھی دے جاتے ہیں

Comments are closed.