متاثرین کے نام

(بشارت تنشیط)

ڈھل جائیں گی یہ گھڑیاں بھی یہ لمحات جائیں گے
!!پریشاں تم نہیں ہونا کہ یہ دن رات جائیں گے
بجا ہے، میرا گلشن بھی ،ابھی سُونا سا دِکھتا ہے
!!!توقع ہے بہار آئے گی، یہ حالات جائیں گے
خدا، محفوظ رکھے گلشنِ انسانیت کو سب بلاوں سے
خدا چاہے گا اک دن یہ سبھی صدمات جائیں گے
!!خدایا، اپنی رحمت سے تُو ہم پہ پھر مہرباں ہو
خدایا، تیری رحمت ہی سے یہ حالات جائیں گے
!!الہی، اپنی رحمت سے مصائب دور کر دے تُو
ترے آگے لیے اشکوں کی یہ برسات جائیں گے
!بشارت، میں خداوندِ جہاں سے مانگ لیتا ہوں
قبولیت کے درجے کو مرے جذبات جائیں گے

Comments are closed.