اے وطن کے شاعرو

(ذوالفقارعلی خان)

اے وطن کے شاعرو

اے وطن کے شاعرو، زیست کے نغمے لِکھو
کوئی نہ نوحے لِکھو، گیت خوشی کے لِکھو
جوش، ولوے لِکھو، زندہ ترانے لِکھو
پیار کے جذبے لِکھو، خونِ جِگر سے لِکھو

قوم کی آنکھیں ہو تُم، راستے دِکھانا ہیں
منزلوں پہ جانا ہے، حوصلے بڑھانا ہیں
قوم کے رگوں میں پھر روحِ زندگی بھرنا
ڈر کے خونی پنجوں سے، دھڑکنیں چھڑانا ہیں

تُم نے ہر اِک موقع پر قوم کو ہِمّت دی ہے
تُم نے ہر اِک مشکل میں قوم کو قوّت دی ہے
نفرتوں کے صحرا میں، نخلِ مُحبت بو کر
عزم منجمد تھا جب، تازہ حرارت دی ہے

جنگ کے مورچوں میں تُم، سارے محاذوں میں تُم
دِل کی ہر اِک دھڑکن میں، خون کے قطروں میں تُم
پربتوں، صحراؤں میں، فِضاؤں اور ہَواؤں میں
پھیل جاؤ اُمید بنکر، گاؤں و شہروں میں تُم

حرف ستارے، جگنو، کیا ہے گر اندھیرا ہے
تیرا قلم ہے روشن، تُو نیا سویرا ہے
تُم ہو باغباں اِس کے، تُم ہو اُجالا اِس کا
یہ سحر بھی تیری ہے یہ چمن بھی تیرا ہے

دیدہ بینائے قوم، تُم ہو رہنمائے قوم
نبض شناسائے قوم، حکیم و دانائے قوم
تیرے سبھی لفظوں میں لِکھی ہے دوائے قوم
تُم سے بھلا بڑھکر کون ہوگا مسیحائے قوم

Comments are closed.