امید اور احتیاط

( سبیلہؔ انعام صدیقی )

امید اور احتیاط
کیسی یہ عالم میں پھیلی ہے وبا
بے کلی اور بے بسی ہے ہرطرف
موت سے پہلے کی اک خاموشی مِیں
ہورہا ہے رقص موت وخوف کا
جس نے لب سے مسکراہٹ چھین لی
گم ہْوئی محفل کی رعنائی سبھی
راستے سارے ہی اب ویران ہیں
اور کسی مزوور کی اجرت گئی
ایسے عالم مِیں بچا ہے پاس کیا؟؟؟؟
فوری دل گویا ہْوا,,, ‘‘اْمّید ‘‘,,,,ہے
اور یہی اْمّید تو ہے زندگی
اور یہی اک زندگی ہے روشنی
اور اِسی ہی روشنی سے پھوٹتی
وہ سَحر ہے , اْس اَندھیری رات کی
جس مِیں پھیلی یہ بلا بن کر وبا
کھا گئی ناجا نے کتنے جسم وجاں
پھر بھی جتنے , جو بھی اب تک پاس ہیں
سب کی خاطر ہی جَلائیں اک دِیا
اْس دِیے میں ہْو اْمیدوں کی کرن
اور عمل کی لَو سے جھلکے ‘‘ احتیاط‘‘
تھام لو اللہ کی رسّی کو پھر
جو مٹاتا ہی نہیں اْمّید کو
اور اْسی رب کا ہے مجھ کو بھی یقیں
لوٹ کر آئے گی رونق جابجا
دے گی دستک بھی خوشی اگلے قدم
بس ذرا اْمّید کو تھامے رہو
احتیاط و صبر پر مائل رہو

Comments are closed.