فضا میں کرگس کی ہی سہی

(کبیر اطہر)

فضا میں کرگس کی ہی سہی، پر۔۔۔ صدا تو ہے نا!
بلا کی چپ میں کہیں کوئی، بولتا تو ہے نا!

چلو!! قرنطینہ ہی سہی خوش گمانیوں کا
خرابہ۔دل مرا۔۔۔۔ کسی کام کا تو ہے نا!

پلٹ بھی آتے ہیں موت کے منہ میں جانے والے
میں لوٹ آوں گا کچھ دنوں میں، کہا تو ہے نا!

جنہیں دوا سے شفا ملے گی، تم ان کا سوچو
ہمیں دعا و درود کا آسرا تو ہے نا!

بھلے بزرگوں میں، عاشقی کی وبا نہ پھیلے
یہ نوجوانوں کے حق میں، اک ابتلا تو ہے نا!

سنا ہے۔۔۔ نوٹوں میں تولی جائیں گی اپنی لاشیں
سو اپنے مرنے کا شہر کو، فائدہ تو ہے نا!

چلو! محبت پہ بعد میں گفتگو کریں گے
ترے مرے درمیان یہ مسئلہ، تو ہے نا

کبیر یاروں سے خوف کھانے لگا ہوں میں بھی
یہ میرے حق میں برا نہیں, پر۔۔۔۔ برا تو ہے نا!

Comments are closed.