خراجِ محبت

(بشارت تنشیط)

طبیبانِ ملت مبارک، سلامت
تمھاری وفاؤں پہ قربان جائیں
وطن میں قیامت کے پُردرد لمحے
جو انسانیت کو مسلسل رلائیں
تمھاری وفاؤں کے مقروض ٹھہرے
تمھاری محبت سے پھر مسکرائیں
مریضوں سے ایسی محبت کا منظر
کہ مرجھائے چہرے بھی پھر کھلکھلائیں
طبیبو ،مبارک ہو پیشہ تمھارا
کہ مجبور لوگوں کا ہو تم سہارا
یہی عزم قائم رکھو تم خدارا
جو مجبور ہیں غم کے مارے ہوئے ہیں
جو تنگ آچکے ہیں جو ہارے ہوئے ہیں
وہ پھر صحت پائیں وہ پھر مسکرائیں
وہ پھر زندگی کی طرف لوٹ آئیں

Comments are closed.