سوگواری کی فضا لے کے چلی آئی ہے

(ڈاکٹر نثار ترابی)

سوگواری کی فضا لے کے چلی آئی ہے
یہ ہوا کیسی ہے ،کیا لے کے چلی آئی ہے
موت بیٹھی تھی مچانوں پہ نشانے لے کر
موقع پاتے ہی وبالے کے چلی آئی ہے
کتنے برسوں سے رکی بیٹھی تھی ہلچل کوئی
جو کیا اس کی سزا لے کے چلی آئی ہے
مجھ کو تو شہر ِخموشاں کا گماں ہونے لگا
جانے کس سمت ہوالے کے چلی آئی ہے
رنج بھی اس کو ستاتا ہے ہری بیلوں کا
دکھ گلابوں کے صبا لے کے چلی آئی ہے
کوئی تو عرصہ محشر کی گھڑی سے پوچھے
کس لئے آہ وبکا لے کے چلی آئی ہے
تھا یقیں مل کے کھلیں گے گل ِتازہ لیکن
رت ،بچھڑنے کی ادا لے کے چلی آئی ہے
سر جھکائے ہوئے مولا !میں کھڑا ہوں در پہ
بے بسی حرف ِدعا لے کے چلی آئی ہے

Comments are closed.