ہاتھ قاتل سے ملانے کی ضرورت کیا ہے

(اشرف جاوید)
ہاتھ قاتل سے ملانے کی ضرورت کیا ہے
راستہ گھر کا دکھانے کی ضرورت کیا ہے
وہ تو خاطر میں نہیں لاتا مسیحا کو بھی
بات ظالم سے بڑھانے کی ضرورت کیا ہے
ملنا لازم ہو، تو پھر فاصلہ رکھ کر ملیے!
کسی کو سینے لگانے کی ضرورت کیا ہے
شہر سنسان ہُوئے جائیں اُسی کے ڈر سے
خوف کو روگ بنانے کی ضرورت کیا ہے
سانس لینے کے لیے تازہ ہَوا بھی نہیں ہے
ایسے میں سیر کو جانے کی ضرورت کیا ہے
یہ مکافاتِ عمل ہے، یہ گناہوں کی سزا
جان کر آنکھیں چُرانے کی ضرورت کیا ہے
ہے فقط گوشئہ تنہائی، اگر غم کا علاج!
بے سبب بھیڑ میں آنے کی ضرورت کیا ہے
دونوں مخلوقِ خدا ہیں، وہ قضا ہو کہ شفا
یہ کھلا راز چھپانے کی ضرورت کیا ہے
اُس کی چوکھٹ کو پکڑ لیں، اُسے راضی کر لیں
سر کہیں اور جھکانے کی ضرورت کیا ہے

Comments are closed.