اللہ کی جانب سے مرضِ کورونا

(ڈاکٹر منورؔ احمد کنڈے)

(پنجابی نظم) اللہ وَلّوں۔۔ روگ ’’ کورونا ‘‘

اللہ وَلّوں کُل جہانِیں آیا روگ ’ کورونا ‘
اساں وی اَکھِّیں تکنا سی اہ اِنج وی جگ تے ہونا
دہشت ایس’’ کورونے‘‘ دی اے کیہہ یورپ ، افریقہ
ایشیا توں اہ چل کے آیا کینیڈا ، امریکہ
سُن دے ساں کہ رَبّی آفت اِنساناں تے آندی
دُنیا اندر حشر دیہاڑا سب نُوں یاد کراندی
یاد کراندی ہر بندے نُوں کیہہ کیہہ پاپ کمائے
کِنے ظلم سی کِیتے کِس تے، کِنّے لوک ستائے
حق سی مارے کیہدے کیہدے، کِس دی چوری کیتی
کِس تے بے انصافی دی سی مُنصِف نیّت نِیتی
کِس تِرھائے بے بس دا سی وَگدا پانی ڈَکیا
ویکھ کوہاڑا ظلم دے ہتھیں، کُجھ وی کر نہ سَکیا
مِل جُل قوم نوں لُٹ کے کھاھدا ، لندن بینکاں بھریاں
کِس کم تیرے گُٹّے بَنھیاں ہیرے لَگیاں گھڑیاں
چوٹھے مَنتر گَنڈے کر کر ہموطناں نُوں لُٹیا
سِر تے آن عذاب کھلوتا کیہہ کھَٹیا کیہہ وَٹیا
نَٹھّن نُوں ہُن راہ نہ لَبھے اِنج ’’ کورونے ‘‘ دَبیا
واج ضمیر دِلاں نوں مارے : ’’ کیہہ بدذاتو لبھیا ؟ ‘‘
عقلاں والے کم نہ کیتے نیکوکاری چھَڈی
چھوٹا وَڈا جِسدا عہدہ کھاہدی رَج کے وَڈھی
خود نوں آکھن والے فاضل، دَس دَس قتل کرائے
لَچھّن ویکھ شطان جیہناں دے کھِڑ کھِڑ ہَسدا جائے
ہر سِر تے ہُن آفت آئی ، آکھن ’’ رب ازماوے ! ‘‘
بھیج بیماری مومن نوں اوہ اِمتِحان چے پاوے
ایس ’’ کورونے ‘‘ کُجھ نئیں کرنا گَج مقرّر آکھے
پُٹھّے اَکھّر سِدھے کیتے ، کڈھے پُلس کڑاکے
کرو دعاواں بیماراں لئی، نرساں اَتے طبیباں
پھِر جو ہونا ہو کے ریھسی لکھیا وِچ نصیباں
آگئی سمجھ زمانے بھر نوں رب اے کِنّاں ڈاھڈا
سب توں وڈا مورکھ جس نے اُس نل لایا آڈھا
سچے مومن سجدے پے پے تَر مصلّٰی کر دے
رب نبیؐ دی ناراضی توں پل پل ریہندے ڈر دے
سچی توبہ کرو منورؔ بند نیں کُل مسیتاں
کیتیاں خانے کعبے نے اج تیتھوں دور پریتاں
—————-
ترجمہ :
اللہ کی جانب سے مرضِ کورونا
اللہ تعالیٰ کی جانب سے سارے دنیا میں مرضِ کورونا آیا ہوا ہے
ہم نے یہ بھی اپنی آنکھوں سے ایسے ہوتے ہوئے دیکھنا تھا
کیا یورپ اور کیا افریقہ ! اس کورونا کی دہشت چھائی ہے
ایشیا سے نکل کر یہ کینیڈا اور امریکہ تک پہنچ گیا
سنتے تھے کہ رب کی طرف سے انسانوں پر آفت آتی ہے
جو دنیا میں سب کو یومِ حشر یاد کروا دیتی ہے
انسانوں کو اپنے اپنے گناہ یاد آنے لگتے ہیں
کتنے کس پر ظلم کئے تھے اور کتنے لوگوں کو ستایا تھا
کس کس کی حق تلفی کی تھی۔ کس کی چوری کی تھی
منصف نے کس سے بے انصافی کرنے کی نیّت کی تھی
کون پیاسا بے بسی کی حالت میں تھا کہ اس کے بہتے پانی کو روک
لیا گیا تھا
وہ بے بس انسان ظلم کے ہاتھوں میں کلہاڑہ دیکھ کر کچھ نہ کر سکا
مِل جُل کر قوم کو لوٹنے والوں نے لندن کے بینک بھر دئے
اُن کی کلائیوں میں بندھی ہیروں جڑی گھڑیاں کس کام آئیں ؟
منتر گنڈے کے جھوٹے کاروبار والے ہموطنوں کو لوٹتے رہے
سر پر عذاب آیا کھڑا ہے ان اعمال کا کیا فائدہ پہنچا
کورونا نے ایسے دبایا ہے کہ بھاگنے کوکوئی راستہ نہیں مل رہا
ضمیرکی صدا دلوں سے پوچھ رہی ہے : بد ذاتو تمہیں کیا حاصل ہوا ؟
عقلمندی کے کام چھوڑدئے، نیک اعمال چھوڑ دئے
چھوٹے بڑے عہدے داروں نے خوب رشوت ستانی کی
خود کو فاضل کہنے والے ایسے بھی ہیں جنہوں نے دس دس قتل کروائے ہوئے ہیں
جن کے اعمال کو دیکھ کر شیطان قہقہے لگاتا رہتا ہے
سروں پر اب جبکہ آفت آ گئی ہے تو وہ کہتے ہیں یہ رب کی طرف سے آزمائش ہے
بیماریاں بھیج کر اللہ تعالیٰ مومنین کا امتحان لیتا ہے
ایسے مقررین بھی ہیں جو جوش و خروش کے ساتھ کہتے ہیں کہ کورونا کچھ نہیں کر سکتا
ان کی تقریروں کی ٹیڑھی اصطلاحات کو پولیس والوں نے بزور درست کروا دیا
بیمار افراد کے لئے ، نرسوں اور ڈاکٹروں کے لئے دعائیں کریں
پھر وہی ہوگا جو تقدیر کا لکھا ہوا ہے
زمانے کو سمجھ آ گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کتنا بڑا ہے
سب سے بڑا احمق وہ ہے جو اللہ کے ساتھ جھگڑے میں پڑتا ہے
سچے مومنین حالتِ سجدہ میں جائے نماز کو اشکوں سے تر رکھتے ہیں
وہ پل پل ڈرتے رہتے ہیں کہ کہیں ان کا رب اور نبیؐ ان سے ناراض نہ ہو جائیں
منورؔ سچی توبہ کرو۔ تمام مساجد بند ہو گئی ہیں
خانہ کعبہ نے بھی اپنی محبت کو تم سے دور کر دیا ہے

Comments are closed.