وبا جو پھیلی ہے اتنی ، خطا ہماری ہے

(ممتاز فاطمہ کاظمی)

وبا جو پھیلی ہے اتنی ، خطا ہماری ہے
کسی سے مل نہیں سکتے سزا ہماری ہے

ہمیں بچانا ہے خود کو ، یہ سوچنا ہوگا
گھروں میں قید ہی رہنا ، بقا ہماری ہے

قضا نے گاڑے ہیں پنجے وبا کی صورت میں
یہ ہولناکی ہے کیسی ، فضا ہماری ہے

تیرے ہی حکم پہ یارب تجھے پکارا ہے
عذاب ٹال دے ہم سے ،ندا ہماری ہے

تیراہی اسم شفا ہے تیری ہی یاد دوا
یقین اس پہ ہمارا، دعا ہماری ہے

تیرے سوا یہ بتا کس کے در پہ جائیں ہم
گنہہ گار ہیں مالک ، خطا ہماری ہے

سکت نہیں ہے ہماری اٹھا ئیں اتنابوجھ
نحیف ہم ہیں بہت ، یہ ادا ہماری ہے

یہاں سے ملتی ہے امید زیست کی ممتاز
مرض ہو کوئی بھی، خاک, شفا ہماری ہے

Comments are closed.