کورونا وائرس

(جہاں آرا تبسم)

ذرا سی دیر میں کتنی بگاڑ دی دنیا
کورونا وائرس تونے اجاڑ دی دنیا

کہیں چراغ, منور بجھادیا تو نے
کہیں نگاہ کا جوھر مٹادیا تو نے
کہیں پہ لوٹ لی تو نے خیال کی دنیا
کہیں دماغ کو پتھر بنا دیا تو نے

ذرا سی دیر میں کتنی بگاڑ دی دنیا
کورونا وائرس تونے اجاڑ دی دنیا

حسین پھول سے بچوں کی تازگی لے لی
چمکتے چہروں کی آنکھوں کی روشنی لے لی
بھرے جہاں میں طلب کو تباہ تونے کیا
لطافتوں سے بھری تونے شاعری لے لی

ذرا سی دیر میں کتنی بگاڑ دی دنیا
کورونا وائرس تونے اجاڑ دی دنیا

نہ وہ حیات نہ مقصد کی آرزو باقی
نہ جوش دل میں ٫ نہ وہ گرمئ لہو باقی
ترے سبب سے بہار, چمن بھی روٹھ گئی
نہ وہ چمن نہ وہ پھولوں کا رنگ و بو باقی

ذرا سی دیر میں کتنی بگاڑ دی دنیا
کورونا وائرس تونے اجاڑ دی دنیا

یہ عام جنگ نہیں جنگ یہ حیات کی ھے
یہ آدمی کی نہیں جنگ ، کائنات کی ھے
ہمارے صبر کی شاید یہ آزمائش ھے
یہ ذات کی نہیں ھے جنگ یہ ثبات کی ھے

ذرا سی دیر میں کتنی بگاڑ دی دنیا
کورونا وائرس تونے اجاڑ دی دنیا

بلند، دست, دعا ھو تو کوئی دیر نہیں
جو میرے رب کی رضا ھوتا کوئی دیر نہیں
اگرچہ فرد نے اپنی ہی جنگ لڑنی ھے
مگر جو ایک صدا ھو تو کوئی دیر نہیں

ذرا سی دیر میں کتنی بگاڑ دی دنیا
کورونا وائرس تونے اجاڑ دی دنیا

Comments are closed.