ياربّ ہیں گنہگار بہت معاف تو کردے

(سيّد منّور علی وفؔا)

==مناجاتِ وفا براۓ وبأ==

ياربّ ہیں گنہگار بہت معاف تو کردے
تیرے ہیں سَزاوار ہمیں معاف تو کردے

اعمال اور اطوار میں قابل ہیں سزا کے
مارے ہوۓ، لاچار ہیں ہم ایک وبأ کے

وه ایک وبأ جو کے سنهبلنے نہیں دیتی
دو چار قدم بھی ہمیں چلنے نہیں دیتی

انساں نے ترقی کے بہت چرچے کیے ہیں
تیری ہر اِک نعمت کے بہت خرچے کیے ہیں

یہ بھول گیا انساں فقط تو ہی بڑا ہے
نادان ہےانساں جو خدائی سے لڑا ہے

مولا تیرے آگے ہے کیا اوقات کسی کی؟
انسانیت طالب ہے تیری دادرسی کی

جو مَر رہے ہیں وه سبھی انسان ہیں یاربّ
سب تیرے قہر سے یہ پریشان ہیں یاربّ

يہ موت کے ساۓ میرے یاربّ تو ہٹادے
بس کر میرے مولا نہ ہمیں اور سزا دے

یاربّ تیرے کعبہ میں عبادت نہیں ہوتی
روضۂ نبى(ص) کی بھی زیارت نہیں ہوتی

مسجد میں بھی اب خوف سے ہم جا نہیں سکتے
مُردے کو بھی سب مِل کے دفنا نہیں سکتے

یاربّ تیری رحمت کے طلبگار ہیں سارے
اب معاف بھی کردے تو گناہوں کو ہمارے

رحمت ہے بڑی تیری انساں کی خطا سے
مایوس نہ کر ہم کو یاربّ تو عطا سے

یاربّ دلِ مومن کو صاف تو کردے
ہیں بہت خطاکار مگر معاف تو کردے

مایوس نہ کر اے خُدا آج وفؔا کو
دور ہم سے کردے مولا ہر ایک سزا کو

Comments are closed.