احتياط كيجیئے

(سيّد منّور علی وفؔا)

احتياط، احتياط، احتياط كيجیئے
احکامِ حکومت ہیں، اُنکا ساتھ ديجیئے

ہے آپ کے لیے ہی یہ بہتری کا باعث
نیکی سمجھ کے یہ عمل بقدرِ بِساط كيجیئے
احتياط كيجیئے بس‌ احتياط كيجیئے

یہ زندگی کی نعمت اللّٰه کی عنایت ہے
پھر احتياط میں کیوں حکومت سے شکایت ہے
بس كيجیئے خدارا، اس سے نہ ہاتھ كيجیئے
احتياط كيجیئے بس‌ احتياط كيجیئے

بوڑھے ہیں اگر آپ تو بچوں کی ضرورت ہیں
گر نوجواں، جواں ہیں تو سب کی ضرورت ہیں
مل کر مقابلہ یہ کورونا کے ساتھ كيجیئے
احتياط كيجیئے بس‌ احتياط كيجیئے

شادی شده پریشاں بیوی کے طعنے سُن لیں
کڑوی کسیلی جو بھی اب اِس بہانے سُن لیں
بس فیملی بڑھے نہ، یہ احتياط كيجیئے
احتياط كيجیئے بس‌ احتياط كيجیئے

ناراض ہوکے باہر اب جاسکیں گے کیسے
اس طرح بچ رہے ہیں آپ کے بھی پیسے
سب کے ساتھ آپ بسر دن و رات كيجیئے
احتياط كيجیئے بس‌ احتياط كيجیئے

مانا کہ بہت مشکل ہر وقت گھر میں رہنا
پر ماننا پڑے گا حُکام کا یہ کہنا
ہے زندگی اسی میں، برائے حیات كيجیئے
احتياط كيجیئے بس‌ احتياط كيجیئے

یہ خود نہیں آئیگا، اسے آپ ہی لائینگے
ہوگا یہ جب ہی ممکن باہر جو آپ جائینگے
گھر میں مُقید ہو کر اس سے جہاد كيجیئے
احتياط كيجیئے بس احتياط كيجیئے

ميٹر کا فاصلہ بھی برقرار رکھئیے
چھینکنے والے سے راهِ فرار رکھئیے
شریکِ حيات كو بھی شرکِ حيات كيجیئے
احتياط كيجیئے بس احتياط كيجیئے

اک قوم ہيں، اک جاں ہيں یہ سب کو بتا ديجیئے
ملت پہ پڑے وقت تو سب اپنا لُٹا ديجیئے
ہر فعل اور جہد سے کورونا کو مات ديجیئے
احتياط كيجیئے بس احتياط كيجیئے

یہ ہے دعا وفؔا کی ربّ سے، وه معاف کردے
شرِک و کُفر سے موّلا ہر دل کو صاف کردے
رحم و کرم کی بارش، اے پاک ذات كيجیئے
احتياط كيجیئے بس احتياط كيجیئے

Comments are closed.