یہ وقت ہے عاصم توبہ کا

(عاصم بخاری)

یہ وقت ھے عاصم توبہ کا
یہ وقت ہے یار منانے کا
یہ وقت ھے جھکتے جانے کا
یہ واٸرس جو آیا ھے
جس نے سب کو تڑپایا ھے
بتلایا ہے
اس نے اتنا
میں کچھ بھی نہیں
میں کچھ بھی نہیں
میں خالق کی ناراضی ھوں
الزام کسی کو بھی نہ دو
مجھے کوٸی لے کے آیا نہیں
میں خاق کی ناراضی ھوں
غلطی مانو
بس توبہ کرو
سب مان تمہارے توڑوں گا
تب جان تمہاری چھوڑوں گا
تم کہتے ھو ہم طاقت ور
ہم طاقت ور ہیں دنیا میں
میں واٸرس
اکچھوٹا سا
اب دیکھ لیا
تم کچھ بھی نہیں
وہ قادر ھے وہ مطلق ہے
ہر شٸے ھے اس کے قبضے میں
کمزور ھوتم ، تم کچھ بھی نہیں
کچھ ہوش کرو۔اے نادانو
یہ وقت نہیں ان باتوں کا
جن باتوں میں تم الجھے ھو

Comments are closed.