نغمہ ہمت

(بینا گوئندی)

نغمہ ہمت
بڑھے چلو بڑھے چلوقدم قدم بڑھے چلو
ہمتوں کے باب ہیں
چنے کچھ ایسےخواب ہیں

یہ خواب ہیں پیار کے
ایثار و اعتبار کے
ملت کے اختیار کے
وحدت کے ، انکسار کے
بڑھے چلوبڑھے قدم قدم بڑھے چلو
یک جان یک زبان ہیں ہم
مٹ کر رہیے گی شام غم
ہو گی نہ کوئی آنکھ نم
چھوڑ واب سبؔ وشتم
بڑھے چلوبڑھے قدم قدم بڑھے چلو

فطرت کا یہ اصول ہے
بےجا گلہ فضول ھے
ہمت ھے توحصول ھے
دوا سے دعا قبول ھے
بڑھے چلو بڑھے چلو قدم قدم بڑھے چلو

Comments are closed.