آئسولیشن

(عبدالباسط صائم)
خدا ہم سے ناراض ہے کچھ دنوں سے۔۔۔
وہ اک لمبے عرصے سے بنگلوں مِحلوں مکانوں کے ٹوٹے ہوئے, گندے کمروں میں لیٹے ہوئے بوڑھے ماں باپ تکتا رہا ہے۔۔۔
کہ جن کیسروں میں محبت سفیدی کی صورت چمکتی رہی ہے دمکتی رہی ہے۔۔۔مگر ان کے بیٹوں کو اور بیٹیوں کو۔۔نواسوں کو پوتوں کو اور پوتیوں کو کبھی اتنی فرصت نہیں مل سکی کہ وہ بوڑھے لرزتے ہوئے ٹھنڈے ہاتھوں کو دل سے لگاتے۔۔۔۔
ضعیف آدمیت کے پاوں دباتے۔۔۔
اندھیرے مٹاتے۔۔۔کوارٹر میں مرتے ہوئے بوڑھے لوگوں کو پانی پلاتے۔۔۔
خدا ہم سے ناراض ہے کچھ دنوں سے۔۔۔
وہ سب جانتا ہے وہ سب دیکھتا ہے۔۔۔
اسے علم ہے ہم نے پڑھ لکھ کے ماں باپ سے کیا کیا ہے۔۔۔
انہیں کیا دیا ہے۔۔۔وہیں چھوڑ آئے ہیں ہم ان کو گاوں میں مرجانے کو۔
اور پردیس میں سالہا سال سے جی رہے ہیں ہنسی سے خوشی سے۔۔۔۔۔نہیں دل میں آیا خیال اپنے گھر جانے کو
بوڑھے ماں باپ گھٹنوں کی تکلیف سے اوندھے بستر پہ لیٹے پڑے ہیں وہاں۔۔۔اور ہم کامیابی کی مسند پہ اونچے بہت اونچے سب سے کھڑے ہیں یہاں۔۔۔۔
وقت پر ان کو کھانا ملا یا نہیں۔
پھول ان کے دلوں میں کھلا یا نہیں۔۔۔
کیا دوائی بھی لی ہے انہوں نے کبھی۔۔
کتنی تکلیف ہے ان کے دل میں ابھی۔۔۔
ہم نہیں جانتے۔۔۔پر خدا جانتا ہے۔۔۔خدا دیکھتا ہے۔۔۔
ہاں تبھی تو وہ ناراض ہے کچھ دنوں سے۔۔۔
اور ناراض ایسا کہ دنیا کے ہر ملک ہر شہر سے اپنے بوڑھوں کو واپس بلانے لگا ہے۔۔۔
جاگنے کی اذیت میں مرتے ہوؤوں کو سلانے لگا ہے۔۔۔
جن کے ہاتھوں سے شرم آ رہی تھی اسے۔۔۔ان کو ان کی دعاوں سمیت اس جہاں سے اٹھانے لگا ہے۔۔۔
مجھ کو لگتا ہے اس نے بہت خوبصورت سے گھر اپنی جنت میں بنوا لئے ہیں۔۔
جہاں ہر طرف روشنی ہے دئیے ہیں۔۔
جہاں کوئی کھانسے تو چڑیا دوائی لئے دوڑی آئے۔۔
جہاں کوئی روئے تو روشن پری آکے آنسو چھپائے۔۔
جہاں ہاتھ کانپیں تو سچا فرشتہ سہارا لئے دوڑتا پہنچ جائے۔۔۔
جہاں سانس اکھڑے تو بلبل محبت سے خوشبو ملائے۔۔۔
خدا ہم سے ناراض ہے کچھ دنوں سے۔۔۔۔
تبھی تو وہ ہم سب کو بے بس اکیلے بڑھاپے کے منظر دکھانے لگا ہے۔۔
تبھی تو وہ ہم کو اکیلا ہی سب سے بٹھانے لگا ہے۔۔۔
بتانے لگا ہے۔۔۔
کہ یوں جی کے دیکھو۔۔۔
اور اپنے گھروں کے بہت چھوٹے کمروں میں مرتے ہوئے بوڑھے لوگوں کے اشکوں کو تم پی کے دیکھو۔۔۔”

Comments are closed.