کورونا تم تو واقف ہو کہ دیوانے پہ کیا گزری

(ڈاکٹرجابر حسین)

کورونا تم تو واقف ہو کہ دیوانے پہ کیا گزری

بلا تخصیص رنگ و مسلک و ملک و نسب
سب کو نگلتے جارہے ہو
ستاروں پر کمندیں ڈالنے والوں،مشینوں،مفتیوں
پیروں کی درگاہوں سے صبح وشام
مہنگے دام لے حل بانٹنے والوں کے ہاتھوں سے نکلتے جارہے ہو
جہاں پورب سے پچھم تک ہلا کر رکھ دیا تو نے
مسلسل دوڑتے،لٹتے لٹاتے ثابت و سیار انساں کو
قرنطینہ کے اندر بھی ڈرا کر رکھ دیا تو نے
شہر،دیہات،گھر،گلیاں فقط انسان کی خاطر
ہاں فقط انسان کے حق میں قرنطینہ بنی ہیں
کہ اس انسان کی فطرت میں،طینت میں
قوانینِ طبیعت توڑنا،اس سے نکل کر بھاگ جانا اور اپنے من پسند انداز میں پھرنا بھی شامل ہے۔
پرندے اور چرندے رقص کرتے گھومتےہیں
درندے واک کرتے پھر رہے ہیں
شجر اشجار،بحروبر،حجر معمول کی تقدیس میں ہیں
سبھی کیڑے مکوڑے روزمرہ زندگی جیتے ہیں خوش ہیں
خدا جانے تری تخلیق کا مقصد،ہدف کیا ہے؟
کہاں، کس ملک کے، کس شخص نے کس تجربہ گہ میں کون سے لمحے میں تیرے اس وبائی جسم کے اجزا ملائے تھے؟وہی جانے خدا جانے!
زمینی اور خلائی زندگی کے ڈھب بدلنے،
نظم ہست و بود ہتھیانے،
حیات رنگ و بو کو، زور و زر کو نت نئے انداز سے مٹھی میں کرنے کے لیے
زمیں کے ناخداؤں نے کوئی ترکیب سوجھی ہو،خدا جانے!
سبب جو بھی ہو ناہنجار کا،
خردمند تو قرنطینوں میں بیٹھے ہیں، پہ دیوانے!!
کورونا تم تو واقف ہو کہ دیوانوں پہ کیا گزر

Comments are closed.