کرونا اور دھرتی ُروپ

(اشرف جاوید ملک)

کاش یہاں کوئی بھی
جیووں پر ظلم نہ کرتا !
لاکھوں ذی روح نہ مرتے
گر بندہ رب سے ڈرتا
فلسطین شام عراق ایران یمن سوڈان
ہر اک سو ہے نقصان
افغانستان ایران
ہر خطہ ہے ویران
لاکھوں لوگوں کی موت
سرمایہ داری کی جنگ
ہر ملک ہے اس سے تنگ
نئی جنگی ڈاکٹرائن
بیالوجیکل ہتھیار
ڈالر کا کاروبار
ایک صد ستر ملکوں میں
ہے سناّٹے کا راج
کس کو جیون کی لاج؟
سب لوگ ہیں بند گھروں میں
ویران ہر اک بازار
اب کون سے میلے ٹھیلے !
اور کیسا کام اور کاج ؟
ہر پاسے موت کا پہرہ
ہر شخص یہاں زار
بے چہرہ اور بے نور
جیون کا ہر دستور
ہے ایک جہاں کی دولت بس چند ملکوں کے پاس
سب پر ہے ان کی دہشت
اورہر سو خوف و ہراس
ہر مثبت سوچ پہ بھاری
ان کی منفی بکواس
طواف پہ ہے پابندی
مساجد پر تالہ بندی
ہر اک ‘ دوجے سے دور
کوئی بھی نہ آئے پاس
ہر خواب ہے گہنایا سا
ہر منظر ہے بد رنگ
رب نہ کرے چھڑ جائے
امریکہ اور چین میں جنگ
یہ دھرتی رب کی ہے فطرت اور قدرت بھی
جو رب کا ہے
اس کی ہے
عزت بھی حکمت بھی
ہو جائے گا برباد
رب جس کو نہیں ہے یاد
تنگ ہو گا جو بھی کرے گا
رب کی مخلوق کو تنگ
کرونا سے لڑنا ہو گا
اشرف یہ عبادت ہے
مر جائیں بھی تو کیا ہے!
انجام شہادت ہے

Comments are closed.