یقین

(ممتاز فاطمہ کاظمی)

میرے وطن کے عزیز لوگو
یقین رکھو کہ
ظلمتِ شب کا خاتمہ
اب قریب تر ہے
دعا ہماری شدید تر ہے
امید, نو ہے یہ
ابر, نیساں برس گیا ہے
یقین, واثق ہے
رحمتوں کا ہی سلسلہ ہے
غضب پہ حاوی
میرے وطن کے عزیز لوگو
یقین رکھو
میرے وطن کا ہر اک سپاہی
ہر اک مجاہد
ہر اک رضا کار ، ڈاکٹر
کے
حسین جذبوں سے
جاں بچانے کی کوششوں سے
وفا کی خوشبو مہک رہی ہے
کلی شفا کی چٹک رہی ہے
وبا کی یہ رت گذر گئ ہے
تمہیں خبر ہے مجھے خبر ہے
یہ ساری دنیا ہی
چشمِ نرگس کی منتظر ہے
میرے وطن کے عزیز لوگو
یقین رکھو، یقین رکھو
کہ خاتمہ اس وبا کا
دنیا سے ہو رہا ہے
یہ ظلم کی ساعتیں ہیں جتنی
قلیل تر ہیں
سحر یقیناً قریب تر ہے

Comments are closed.