خوف وبا نے وقت کو حیران کر دیا

(ممتاز فاطمہ کاظمی)

خوف, وبا نے وقت کو حیران کر دیا
ہر اک شہر ، محلے کو ویران کر دیا

آ فت ہے یہ وبا یا شرارت کسی کی ہے
جو بھی ہے اس نے سب کو پریشان کر دیا

ہر گھر سے ہو رہی ہے اذاں رات میں بلند
ہر شخص کو وبا نے مسلمان کر دیا

شہر,وبا کے لوگوں نے کس احتیاط سے
اب ہاتھ نہ ملانے کا اعلان کر دیا

ہر لب پہ اب دعا ہے طلب عافیت ہی ہے
سجدے میں سر ہے سب کا یہ ایمان کر دیا

سرکش ، شریر مان گئے اس کی ذات کو
خوف, قضا نے ذود پشیمان کر دیا

محفوظ اس وبا سے چرند اور پرند ہیں
بس اس وبا نے لوگوں کا نقصان کر دیا

ممتاز ہم لکھیں گے سدا ظلم کے خلاف
فکر, حسین نے ہمیں انسان کر دیا

Comments are closed.