اپنی سانسیں بچا لو

(منیر احمد فردوس)

اے مکینِ شہر…!
اپنے گلی کوچوں سے اپنی چاپ سمیٹو
کچھ دن اپنے شہر سے ہجرت کر کے
ہر طرف اک تنہائی بچھا دو

سنا ہے
اک سانس شکن دائرہ تمہاری تلاش کو نکلا ہے
جو تم میں اتر کر تمہاری سانسوں کو چوس لے گا

اے شہرِ دل کے اچھے مکینو…!
کچھ دن کو تم شہر میں گونجتی
اپنی آوازیں
اپنے قہقہے
اپنی باتیں
اپنی عبادت
اپنی اذانیں بھی
سب کو اپنے گھر میں چھپا دو
یہ سب تمہاری سانسں سے چلتے ہیں

سنا ہے
اک سانس شکن دائرہ تمہاری تلاش کو نکلا ہے
جو تمہاری سانسوں میں دھڑکتا یہ سب کچھ چاٹ لے گا

اے میرے شہر کے اچھے مکینو…!
بس تم کچھ دن ہجرت کر کے
اس سانس شکن دائرے سے چھپ جاؤ
اور شہر میں مقدس تنہائی بچھا کر
اپنی سانسیں بچا لو
اپنی آوازیں، قہقہے، باتیں، اذانیں
اپنا سب کچھ بچا لو.

Comments are closed.