بِیت جائیں گے یہ لمحات

(محمد اقبال سروبہ)

ایسے حالات کبھی پہلے نہیں دیکھے تھے
جیسے حالات زمانے نے دکھائے ہیں ابھی
سہم جاتا ہے مِرا دل جو یہ بجلی کڑکے
کالےبادل توہراک سمت میں چھائےہیں ابھی
جن کی اوقات فلک نے ہے نمایاں کردی
اہل ِدنیا سے وہ چہروں کو چھپائے ہیں ابھی
بوجھ خود کا بھی اٹھایا نہ گیا پر کچھ لوگ
بار اَوروں کا بھی کندھوں پہ اٹھائے ہوئے ہیں
اہل ِہمّت نے نہ مسموم فضاء کو دیکھا
جام بھر بھر کے محبّت کے پلائے ہیں ابھی
وقت جیسا بھی ہو ہر وقت سفر میں ہے نا
بِیت جائیں گے یہ لمحات جو آئے ہیں ابھی
میرے ماتھے کی لکیروں پہ گزارہ کر لو
میں نے کب رنج سبھی تم کو سنائے ہیں ابھی

Comments are closed.