خوف

( فیصل عرفان )

شہر ویران ہے
گاؤں سنسان ہے
آنکھ حیران ہے
دل پریشان ہے
خوفِ انجان سے
ہاتھ کوئی ملانے پہ راضی نہیں
یہ جو لاشیں ہیں
بکھری ہوئی چارسو
کوئی ان کواُٹھانے پہ راضی نہیں
وہ جو رہتے تھے دل کے نہاں خانوں میں
اب وہی پاس آنے پہ راضی نہیں

Comments are closed.