کسی دعا کی طلب,بددعا کا خوف نہیں

(مسعود ساگر)

کسی دعا کی طلب,بددعا کا خوف نہیں
جو پیش آ چکی,اس ابتلا کا خوف نہیں
گراں فروشی,ملاوٹ,وہ بھی وبا کے دنوں
یہ کیسے لوگ ہیں جن کو خدا کا خوف نہیں

…………………….

صورِتِ حال سے اتنا بھی نہ رنجیدہ ہوں
بات سنجیدہ ہے,سو آپ بھی سنجیدہ ہوں

شہر ویران کریں,شہر کی رونق کے لیے
تاکہ حالات یہاں اور نہ پیچیدہ ہوں

………………….
شہر ہوں گے مرے آباد ,خدا خیر کرے
قم,مدینہ, کہ ہو بغداد,خدا خیر کرے

میں ہوں کشمیر,مری قید کی اوقات ہی کیا؟
قید میں ہیں سبھی آزاد, خدا خیر کرے

فیصلہ ساز کو ادراک نہیں صورت کا
وہ ہے مجموعہءاضداد,خدا خیر کرے

رات کیا صبح کو آنے سے کبھی روک سکی؟
شاد ہوں گے جو ہیں ناشاد,خدا خیر کرے

شہر کے شہر اجڑتے ہی چلے جاتے ہیں
اب کے ایسی پڑی افتاد ,خدا خیر کرے

بھوک کا پہرہ ہے اور بند ہے کچی بستی
کوئی کس سے کرے فریاد,خدا خیر کرے

Comments are closed.