موجودہ دور میں

(فیض الباری بیگان)

اللھو قھر پہانہ پت دنیو زاڑیتائے
پھتیو قرنطینہ کوریتائے پھتیو کھڑیتائے
تان لوٹیو گھتو شکلہ اللہ پاشیتائے
مغرور طاقتان قوتو غیرنانو غریتائے

مہ جسم مہ مرضی راوشتاو دی تو راوو کی
دی بیری نیسی قوشت کورے کی دی ٹراوو کی
دی تان مرضیو زورو کورا کوس پشاوو کی
تہ دیتی دوری ژیلو موڑو کیچہ پوریتائے

جونازان ای طوفان نیسیتائے ووہانو دیہہ
زندگیو ژان نیسیتائے ووہانو دیہہ
غذابو ای گان نیسیتائے ووہانو دیہہ
مسلمو اہ اھیہ اسنیتائے عرشو ڑینگیتائے

بو ناز اشوئے ترقیو سورا چینو چے امریکو
ھوساو اوشونی ھمیت سورا ھر ای فریقو
کوراوشتانی چال کوری ابلیسو طریقو
ای څریخ نیسی حقو اوانار ھر کھیو پالیتائے

تھوبہ کوروسی سف ای بیتی فریاد کوروسی
سجدہ پریسی گیور اللھو دی یاد کوروسی
تلاوت کوراو تان کوٹوان آباد کورسی
سے وھم نو بوئے کاکی ھردیہ رب ته بسیتائے

بریکاری خلسی کورا شیر برییلیک آخیر
مگم احتیاط دی لازمی کوریلیک آخیر
تان وجودو پھلیدیار سوتیلیک آخیر
صفائی نصف ایمان رے ژوت ته ݯھیݯھیتائے

کرونا وائرس نو کیہ خوش الھو عذاب
تہ پانہ بوتی لاکھی شیر الھو کتاب
یو گنی ھورو لوڑے تو دوئے تتے حساب
الله تان پیغامو ھیرا تسوم تاریتائے

تے سپر پاور کو رنځونیان ھوݰ البت ارو
کھوپیک ݯھیکو گیاو کو بریونیان ھوݰ البت ارو
سرک سرکی کو لختونیان ھوݰ البت ارو
دجال میڈیا رویان څیق دی آنتو چکیتائے

روخڅیتاوا تو یادی انگئے پروشٹو تے قصان
شدادو چے نمرودو سورا شوخڅیرو واختان
ہموݰ بو قسمہ عبرتار ٹیپ انسانو داستان
کیچہ کی الله فرغونوتے موسو ویݰیتائے

اوغو پھینو غون اف نیشانی ایٹمی طاقت
وا تان حاجتہ کورا ھانی ایٹمی طاقت
گیتی آسمنار بومہ پرانی ایٹمی طاقت
سوتکو پھولوکو سار دی بو پھوک سفان سستیتائے

بیگان نصیحت تان قومو تے ھمونی کومان
مکمل داخل تان دینہ بور یہ لوؤ دومان
خذمت کوریکو کوستے آوا تان کورا بومان
خالاصیو راہ اسلامہ شیر نبیؐ ھݰ ریتائے
——————–
نظم کا مختصر مفہوم

اس نظم میں کرونا وبا کے حوالے سے بات کی گئی ہے۔موجودہ دور میں اسلام اور اسلام کے قوانین کی جو مذاق اڑایا جا رہا ہے۔اس وجہ سے اللہ تعالیٰ جلال میں آکر ان حضرات کو دیکھا دیا کہ جب میں انسان پر کوئی عذاب مسلط کر دوں تو دنیا کی کوئی طاقت آپ کو بچا نہیں سکتا۔کرونا کی وائرس چائنہ کی شھر وہاں سے ظاہر ھوا۔یہ ان مسلمانوں کی آہ کا جواب ہے جو انتہائی بےبسی کے عالم میں اپنے رب سے شکوہ کیے تھے۔
اس کے علاؤہ دنیا کے تمام سپر پاور اپنی تمام تر طاقت کے باوجود ایک نہ نظر والی وائرس کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
اور زمین والوں کی تمام تدابیر ناکام ہو چکے ہیں۔
البتہ احتیاطی تدابیر پر عمل ضرور کرنا چاہیے۔
اور ساتھ رب متعال کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔
اپنی گناہوں سے توبہ کرنی چاہیے۔اور تلاوت کلام پاک اور نمازوں کا اہتمام کرنا چاہیے۔
چونکہ صفائی نصف ایمان ہے اس لیے خود کو ہر لحاظ سے صاف رکھنا چاہیے۔اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر مکمل عمل کرنا چاہیے۔

Comments are closed.