مصائب کے دور میں ہم جان جاں، سرخرو ہوتے رہے ہیں

(عدیل محمود بٹ)

مصائب کے دور میں ہم جان جاں، سرخرو ہوتے رہے ہیں
مشکلات جتنی بھی ایزا پرور تھیں، روبرو ہوتے رہے ہیں

اس سال بہار کے ساتھ جو وباء آئی ہے، درد و غم لائی ہے
اختلاط مکروہ ہے، فاصلے بڑھے ہیں اور ہر قدم جدائی ہے

کبھی سانس مہکتے تھے اب تو بس کرونا اگلتے نظر آتے ہیں
ایک ننھے سے وائرس کے ساتھ، یہ ہجوم لڑتے نظر آتے ہیں

دو دن کی تو بات ہے پھر وہی جنون ہے، زمان ہے، ارمان ہے
راستہ ہے پر خطر، احتیاط اس کا توڑ ہے، جان ہے، جہان ہے

امید ہے زیست کی ہر دم جوان، لیکن ایک التجاء کے ساتھ
دوام کسی شے کو نہیں، جی لے ابتداء میں انتہاء کے ساتھ

Comments are closed.