یقین

(منصف ہاشمی)

آج موسم کے رنگ میں چھپ کر…!
جو قاتل چل رہا ہے.
جلد ہی ڈاکٹر اسے گھیر لیں گے.
سائنسداں اسے قتل کردیں گے.
جن کی آنکھوں سے حروف مقطعات گر رہے ہیں.
ان کے چہروں پر سبز رونق لاتے ہوئے..!
برگد کی چھاؤں میں بزم جذبات سجاتے ہوئے…!
گل داؤدی, گل مریم اور گلاب میں زندگی اتر آئے گی.
مسجدوں کے دروازے کھولیں گے.
مندروں میں داسیاں رقص کرتے ہوئے…آرتی اتاریں گی.
سبز موسم…محبتوں کے علمدار کے ساتھ آئے گا.
میرے وطن میں نور ہی نور چھا جائے گا.

Comments are closed.