یوں توکرتی ہے بور تنہائی

(نسیمِ سحرؔ)

یوں توکرتی ہے بور تنہائی
مانگتے ہیں ہم اَور تنہائی
بڑھتا جاتا ہے اُتنا سنّاٹا
جتنا کرتی ہے شور تنہائی
اَور کیا ہے بھلا قرنطینہ؟
یعنی تھوڑی سی اَور تنہائی !
چاند کی بے وفائیوںکے سبب
چاہتا ہے چکور تنہائی
ہو گئے لوگ کس قدر تنہا!
دیکھتی ہے بغور تنہائی
پہلے رہتی تھیں رونقیںکتنی
اور اب چاروں اور تنہائی!
بولتا ہی نہیں کوئی گھر میں !
کرتی رہتی ہے شور تنہائی
کیا ہے تنہائی کا علاج یہی؟
اَور تنہائی، اَور تنہائی؟

جیسے لکھی گئی مقدّر میں
ہر نفَس، پور پور تنہائی
شہر میں اک بلاکے آتے ہی
ہو گیا سب کاطور، تنہائی
انجمن میں بھی ہو گئی داخل
بن کے چالاک چور، تنہائی
محفل آرا ئیاں تو خواب ہوئیں
لے کے آیا یہ دَور تنہائی
ایک زنجیر سب کے پاؤں میں
بن گئی ایسی ڈور تنہائی
جیسے دیمک لگی ہوئی ہو یہاں
اس قدر جسم خور تنہائی !
بنتی جاتی ہے اب نسیمِ سحرؔ
زندہ انساں کی گور تنہائی

Comments are closed.