دعا

(عابد محمود عابد)

مُصلّی بچھا ہے دعا ہے، خدا ہے
وبا ہے تو کیا ہے دعا ہے، خدا ہے
کریں احتیاطی تدابیر مل کر
یہی حل بچا ہے دعا ہے، خدا ہے
معافی کےتجھ سے طلب گار ہیں سب
یہی التجا ہے دعا ہے، خدا ہے
وہ محفوظ، مامون ہے وائرس سے
جو گھر پر ڈٹا ہے دعا ہے، خدا ہے
مرے رب! مجھے اب سمجھ آ گئی سب
یقیں آ گیا ہے دعا ہے، خدا ہے
جو محصور تھے گھر پہ راشن نہیں تھا
کسی نے دیا ہے دعا ہے، خدا ہے
یہ کشمیر کی بددعا ہے یقینناً
ہماری سزا ہے، دعا ہے، خدا ہے
ہمارا مسیحا، محافظ بنا ہے
فرشتہ نما ہے دعا ہے، خدا ہے

Comments are closed.