نہیں یہ ڈر، کرونا مار دے گا

(نسیمِ سحر)

نہیں یہ ڈر، کرونا مار دے گا
مجھے تو اپنا ہونا مار دے گا
یہ گھر بے زار سا لگتا ہے مجھ سے
مجھے اس گھر کا کونا مار دے گا
اگر منہگائی سے بچ جائیں گے ہم
تو پھر ہم کو کرونا مار دے گا
نسیمؔ آنکھوں میں نیند آتی نہیں ہے
کھلی آنکھوں سے سونا مار دے گا

Comments are closed.