فضائے سکوں

(عائشہ عبدالرشید)

زمیں کے باسیو ! اترا فلک سے اک سندیسہ ہے
تمھارے اس سندیسے میں سبھی حالات لکھے ہیں
کہ ماضی کی بہت سی داستانیں درج ہیں اس میں
اور ان سب داستانوں کے
کئی عنوان لکھے ہیں
کہیں پر مکر لکھا ہے
پھر اس سے کچھ ہی نیچے اک سطر پر ہاں
محبت کا مٹا سا نام لکھا ہے
زمیں کے عارضی، جھوٹے خداؤں
کے لیے اس میں
وبا کے نام سے پیغام لکھا ہے
یہ لکھا ہے تم اپنے قصر کو اب قبر میں ڈھالو
اسے اک مقبرے کا نام دے ڈالو
اور اپنے تخت’ کو تختہ بنا ڈالو
زمیں کے باسیوں پر تم زمیں ہی تنگ کر ڈالو
مکافات عمل سے پھر زمیں خوں رنگ کر ڈالو
چلو اس اشرف المخلوق کو محصور کر دو
اور زمیں کو سانس لینے دو
یقیناً خود کہو گے تم
سنو، دیکھو
یہ کیسا پر سکوں ماحول چھایا ہے
ارے دیکھو !
یہ کہتے ہیں وبا پھیلی یہاں پر ہے
حقیقت میں
سکوں کی اب فضا پھیلی یہاں پر ہے _____!

Comments are closed.