بقاۓ حیات

(مظفر حسن بلوچ)

شہر خالی ہو گئے ہیں، راستے ویران ہیں

جام الٹے ہو گئے ہیں،مے کدے ویران ہیں

بلبلیں باغوں سے رخصت ہو گئیں افسوس ہے

ٹہنیاں پھولوں سے خالی ہو گئیں افسوس ہے

جن پہ جھولے جھولتے تھے وہ شجر خاموش ہیں

ہیں مکانوں میں مکیں چپ بام و در خاموش ہیں

کیا قیامت ہے کہ اب یاروں کی محفل لٹ گئی

دیکھتے ہی دیکھتے وہ انجمن ہی اٹھ گئی

عشق اب دیدار کو ترسے گا صد افسوس ہے

حسن اب بیمار کو ترسے گا صد افسوس ہے

شاعروں کا درد پہلے سے سوا ہو جائے گا

سبزہ ء نو رستہ بھی بیمار سا ہو جائے گا

لوگ اپنے بھی یہاں انجان سے ہو جائیں گے

آشنا جو ہو گا وہ نا آشنا ہو جائے گا

ہم نے جو سوچا نہیں تھا وہ قیامت آئے گی

وقت کی گردش ہمیں اس موڑ پر لے آئے گی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آسیاۓ گردش _ایام تھم جانے کو ہے

صبح_نو آنے کو ہے اور شام_غم جانے کو ہے

آزمائش کی گھڑی میں یہ صلاۓ عام ہے

دین کا اے غم زدو ! لا تقنطو پیغام ہے

رحم کر ان ناتواں کندھوں پہ مولا رحم کر

رحم کر ان پھول سے چہروں پہ مولا رحم کر

عرش تک میری مظفر یہ صدا جانے کو ہے

موت اب مرنے کو ہے اور زندگی آنے کو ہے

Comments are closed.