خود کو انمول کر کے چھوڑا ہے

(افشاں شیخ)

خود کو انمول کر کے چھوڑا ہے
وقت تھوڑا ہے بہت تھوڑا ہے

اِک دھاگے کے بکھرے موتیوں کو
بہت جوڑا ہے بہت جوژا ہے

مجھ کو معلوم ہے میرے گھر کو
کس نے توژا ہے کس نے جوڑا ہے

بات جب اختیار کی آٸ
سب نے میرےہی دل کو توژا ہے

آج کر کے معاف سب کو افشاں
رشتہ یہ آخری بھی توژا ہے

Comments are closed.