ہجر

(منصف ہاشمی)

ہجر…!
وہ فرشتوں کی طرح معصوم تھی.
جو سوسن و نسترن سے سرگوشیاں کرتے ہوئے…!
تتلیوں سے خوشبو کی طرح ملتے ہوئے…! سنہری کرنوں میں … میرا طواف کرتی تھی.
اب تو سحر خیرات جیسی ہے
شام ایسی ہے…جیسے صدقے میں ملی ہو.
ہوائیں قاتل بنی ہوئی ہیں.
وہ نظر نہیں آتی…!
جس سے روح کا رشتہ تھا.

Comments are closed.