مناجات

(ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد)

مناجات بدرگاۂ قاضی الحاجات جل جلالہ
[’’کرونا ‘‘ سے نجات کی فریاد]

سارے عالم پر مسلط ہو گیا کیسا عذاب

یہ وبائے ناگہانی ، یہ بلائے بے نقاب!!
خلق جس سے مر رہی ہے روز بے حد و حساب

موت کی دہشت سے پھیلا ہے جہاں میں اضطراب
ہر طرف آنسو ہیں ، نالے ہیں ، بُکا ہے ، بَین ہے
اے خدائے مہرباں ! دُنیا بہت بے چین ہے
منزلیں گُم ہو گئیں ، معدوم ہے راہِ سفر

کارواں سب تھم گئے ، طائر ہوئے بے بال و پر
کتنی تدبیریں اکارت ، کتنے حیلے بے اثر

دندناتا پِھر رہا ہے شہر کی سڑکوں پہ ڈر
اس مصیبت کی فضا سے دے زمانے کو نجات
فضل کر مخلوق پر اپنی تو ربِ کائنات!
ہنستے بستے شہر ویراں ہو گئے یک بار سب

خوف سے سُونے پڑے ہیں کوچہ و بازار سب
ہے معطل نظمِ عالم ، بند کاروبار سب

عاجز و قاصر کھڑے ہیں عاقل و ہُشیار سب
موت کی دستک سے ہر پیر و جواں خطرے میں ہے
اے خدائے لم یزل! سارا جہاں خطرے میں ہے
اس وبا سے پورے عالم میں مچی ہے کھلبلی

ہے وجودِ مشرق و مغرب پہ طاری کپکپی
ہے ردائے خوف میں لِپٹی ہوئی ہر زندگی

خیمہ زن ہے عرصۂ عالم میں محشر کی گھڑی
کردگارا! رحم کر ، مخلوق کی امداد کر
پنجۂ عفریت سے عالم کو اب آزاد کر
لرزہ بر اندام ہیں سارے جہاں کی بستیاں

التجا ہے صدقِ دل سے ، وارثِ کون و مکاں!
امتحاں کو ٹال دے اور دُور کر یہ سختیاں

الغیاث و الغیاث و الحفیظ و الامان
اے خدائے ابر و باراں! ایسی بارش بھیج دے
جو بہا کر میری دُنیا سے ’’کرونا‘‘ لے چلے

Comments are closed.