یہ فرصتوں کے جو دن ملے ہیں

(سعید عباس سعید)

یہ فرصتوں کے جو دن ملے ہیں
تم ان دنوں میں وہ در بھی کھولو
کہ جس پہ مصروفیت کا تالہ
نجانے کب سے پڑا ہوا ہے
!ذرا کریدو
کہ ذات کے اس تاریک وتیرہ
سے کمرے میں کیا دھرا ہوا ہے
یہ فرصتوں کے جو دن ملے ہیں
شکستہ پَنے کتابِ ماضی کے
الٹو پلٹو،انھیں پڑھو تم
گئے دنوں کی سنہری یادیں
کرو ذرا یاد بیتی باتیں
جو گھر میں بستے ہیں سنگ تمہارے
انھیں سناؤ،انھیں سنو تم
خدارا! فرصتوں کے ان دنوں میں
نہ بے سبب شہر میں پھرو تم
ہے التماس اے عزیز میرے!
ہیں ہر جگہ اب وبا کے ڈیرے
جہاں بھی ہو تم،وہیں رہو تم

Comments are closed.