آرام سے اب گھرمیں رہو ملنے نہ آو

(ڈاکٹر فاطمہ حسن)

آرام سے اب گھرمیں رہو ملنے نہ آو
جو بات ہے دوری سے کرو ملنے نہ آؤ
یہ دن تو فقط خودسے ملاقات کے دن ہیں
کچھ لکھتے رہو اور پڑھو ملنے نہ آو
مشکل ہے بہت وقت کے اس جبرکو سہنا
تقدیر میں لکھا ہے ،سہو، ملنے نہ آو
کب فاصلے رشتوں میں بھلا ہوتے ہیں حائل
فرقت میں بھی تم میرے ہی ہو ملنےنہ آو
جس جگہ ہو جیسی بھی گزرتی ہے گزارو
اپنے لئے جینا ہے جیو ملنے نہ آو
جب گردش دوراں سے کبھی ہوگی رہائ
اس وقت نہ کہنا کہ کہو ملنے نہ آو

Comments are closed.