قرنطینہ

(محمد حفیظ اللہ بادل)

میں بہادری میں بھی اپنی مثال آپ ہی تھا
وہ میں تھا
جس نے گھوڑے کی پیٹھ پر بیٹھ کر آدھی دنیا فتح کر لی تھی
بحر ظلمات میں ڈوڑنے والے گھوڑے بھی میرے تھے
میں دنیا میں کبھی غائب ہو جاتا
اور کبھی ڈھونڈ لیا جاتا تھا
ایک دفعہ مجھے منجنیقیں بناتے ہوئے دیکھا گیا تھا
دریاۓ نیل پر پڑنے والے عصا میں میری طاقت بھی شامل تھی
دنیا کو تسخیر کر کے چاند پر اولین قدموں کے نشانات بھی میرے تھے
طوفانوں کا رخ موڑنے والا بھی میں ہی تھا
زمین کا سینہ چیرنے میں میرا کوئی ثانی نہیں
خلاؤں کو مسخر کرنا میرے سیدھے ہاتھ کا کام تھا
دریا اور صحرا میری ایک ٹھوکر سے دو نیم تھے
میری ہیبت پہاڑ کو رائی کر دیتی تھی
وحشیوں پر جب میرا خوف غالب ہوا تو وہ آبادیوں کو خیر آباد کہہ گئے
میں ایک ہی وقت میں یہاں وہاں تھا
ہیروشیما اور ناگا ساکی پر آج بھی میری دہشت طاری ہے
ایک وقت تھا
میری ننگی تلوار کامنقش دستہ مشرق میں ہوتا تھا
جب کہ اس کی لو دیتی انی مغرب میں

دنیا نے دیکھا کہ میں زہر کا پیالہ پیتے ہوۓ بھی مطمئن تھا
جس کے نشانات آج بھی میرے دانتوں پر نمایاں ہیں
مگر
آج مجھے کیا ہو گیا ہے
کیا یہ میں ہی ہوں
انسانی آنکھ سے بھی نہ دیکھے جا سکنے والے کے خوف میں مبتلا ہو کر
میں اپنے ہی گھر میں قید ہو گیا ہوں
صبح سویرے
اپنی بالکنی سے ایک معصوم اور بے خوف چڑیا کو
فضا میں اڑتے دیکھ کر
آج مجھے پہلی بار
اس پر رشک آیا
اور اپنے آپ پر حیرت ۔

Comments are closed.