ارادھنا

(منصف ہاشمی)

ارادھنا. (نثم)
اے خالق عصر…اے مالک “کن”…!
مسجدوں کے دروازے بند ہیں.
مندروں میں ہو کا عالم ہے.
آنسوؤں سے بھیگی صداؤں میں !
قاتل ہواؤں میں….!
بچے گلیوں میں نکلتے نہیں…کرفیو کا نفاذ بھی نہیں.
اہل زباں…حسن بیاں کے پھول کھلتے نہیں.
اے خالق ارض سماں…!
عنکبوتی تاروں کی طرح وبا کی موجودگی میں…!
اسلوب کنعاں میں ڈوبی جوانیاں…!
موج زلیخاں کی دلفریب روانیاں…!
روایات اذیت سے ڈرتے ہوئے گھروں سے نکلتی نہیں.
اے ازل کے مالک…اے ابد کے خالق…!
یہ دنیا تیری ہی بنائی ہوئی ہے.
جس کے سر پر وبا موت بن کے چھائی ہے.
نشاط روح, سرور ازل, وعدہ اول کو یاد کرتے ہوئے…!
شبنمی گلابوں پر اداسی چھائی ہوئی ہے.
کوئلیں, فاختائیں اور عندلیبان چمن…!
نہ جانے کن گمنام جزیروں کی طرف نکل گئیں ہیں.
اے رب دو جہاں … کچھ بھی معلوم نہیں.
رحم فرما…رحم فرما…اے حافظ حفیظ رحم فرما.

Comments are closed.