اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو

(قدسیہ قدسی)

لا تقنطُوا دے قول نوں وردِ زبان کر
قادر قدیر ہے جیہڑا اسدا بیان کر

کےء او کھے ویلے آےء نے قوماں تے ہر زمان
صبر و یقین نے برے منزل کیتی ۔ آساں

تو اشرفٙ ا لمخلوق ایں انوں اُ کھاڑ . دے
وایرس اے . اناّ جیا تو انوں پٙچھاڑ دے

لا تحؐزن لا خوف نوں ہتھیار تو بنڑا
امید . تے رجا ہی نوں تلوار .تو . بنڑا

شاعر اے . کہ . ادیب مسیحاےؐ ابتلا
کہبراویں نہ تو ہر گز ایہ ویلاےء دعا

ہے اسم با مسمّّٰی پاکاں دی ایہ وے تھاں
گھبرو جیالیاں دا مسکن اے پاکستاں

امید ہے مُکاسی مصیبت عوام . دی
پاسی ایہہ سر زمین حیاتی دوام دی

مایوسی تا .ہک کفرے رکھو امید زیست اُس دے ہی ہتھ شفا وے ہک ہووے یاکہ بیست

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

( تفہیمِ نظم )

١۔ اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو اور اس آیت کو بار بار زبان سے ادا کرو
جو ہر شے پر قدرت رکھنے والا ہے اسی کا یان کرو یعنی یاد کرو ۔

٢۔ قوموں پر ہر زمانے میں بڑے مشکل اوقات آےء ہیں
مگر صبر اور یقین نے منزل آسان کر دی

٣۔تو اشرف المخلوق ہے اس کا قلع قمع کر دو
یہ معمولی ساکیڑا ہے اس کو تو شکست دیدے

4.نہ کوئ ڈر نہ خوف و ملال کرو اس بے خوفی کو اپنا ۔ ہتھیار بناےء رکھو ۔
امید اور رجا آس کو ہی اپنی تلوار بناےء رکھو

5۔ شاعر ہے یا ادیب ہے یہ امراض و مصایب کا طبیب ہے ۔
تم ہر گز نہ گبھرانا یہ وقت ۔ دعا ہے

6۔ یہ دہرتی پاک ۔ لوگوں کی ہے ۔ اسم با مسمی ہے
یہ پاکستان جری جوانوں کا مسکن ہے ۔

7۔ امید ہی عوام کی مصیبت کو ختم کر سکتی ہے ۔
اور یہ سر زمین ایسے کام کر کے ہمیشہ کی
ذندگی یا شہرت دوام حاصل کر سکتی ہے

٨۔ مایوسی تو ایک کفر ہے جینے کی امید رکھو
اسی کے ہاتھ میں شفا ہے ایک بندہ ہے یا بیس لوگ ۔

Comments are closed.