سب کے اعصاب پر تناؤ ہے

(ممتاز فاطمہ کاظمی)

سب کے اعصاب پر تناؤ ہے
زیست کا کس طرف بہاؤ ہے

ذہنی امراض بڑہ رہے ہیں بہت
خوف کا اس قدر دباؤ ہے

وائرس تیری ہے مہربانی
اپنے گھر میں ہی اب پڑاؤ ہے

چڑچڑا پن ہے ہر مزاج میں اب
مسکراہٹ کا چل چلاؤ ہے

شہر, دل میں مچے ہیں ہنگامے
ایک گھیراؤ اور جلاؤ ہے

لوگ لگنے لگے ہیں سب دشمن
ذہن میں کیسا یہ الاؤ ہے

شمعِ ہستی پگھلتی جاتی ہے جان کا اب کہاں بچاؤ ہے

کعبہ بند ، شہر بند، ذہن بھی بند
ظلم کا یہ نیا سبھاؤ ہے

میرے کشمیر کی خبر ہے کچھ
وائرس وائرس سجھاؤ ہے

شعر میں مثل, آ ئینہ ممتاز
روزمرہ کا کیا چناؤ ہے

Comments are closed.