ڈرنا نہیں ہے لڑنا ہے جیت کر دیکھانا ہے

(زارا مہک خان)

ڈرانا نہیں ہے بتانا ہے ہم سب نے آزمانا ہے
نفسانفسی کے دور میں آگاہی پہچانا ہے
ہاتھ دھو کر سینیٹائز کر کے سب کو دیکھانا ہے
اس میسج کو ہم نے گھر گھر پہچانا ہے
چار لوگ نہ ساتھ بیٹھیں ،احتیاط سیکھانا ہے
ملنا جھلنا چھوڑ کر عبادت میں مشغول ہو جانا ہے
نہ چیخنا، چلانا، نہ منہ کے کسی کو آنا ہے
دور رہ کر پیار سے سب کو سمجھانا ہے
کورونا وبائی مرض ہے سب کو بتانا ہے
نہ پھیلانا ہے، نہ بڑھانا ہے، ختم کر کے دیکھانا ہے
حکومت کے ساتھ مل کر اس کام میں مصروف ہوجانا ہے
وقت پر ہر غریب کے گھر راشن پہنچانا ہے
نڈر بن کر اس وقت کا سامنا کرتے جانا ہے
جو بگڑ گئے حالات ہیں؛ انہیں اپنی جگہ لانا ہے
شکست دے کر کرونا کو سبکو انفیکشن سے بچانا ہے
فضا سے مٹانا ہے ماحول کو خوشگوار بنانا ہے
کورونا کو ہرانا ہے؛ جیت کر دیکھانا ہے
ڈرنا نہیں ہے لڑنا ہے کر کے دیکھانا ہے…

Comments are closed.