زیست سرخرو ہوگی

(ذوالفقارعلی خان)

پوری آرزو ہوگی، صُبح جلد طلوع ہوگی
زیست سرخرو ہوگی

ہر طرف اندھیرے ہیں قید میں سویرے ہیں
غموں کےبسیرےہیں
رات چھارہی ہے گر، صُبح کھارہی ہے گر
درد بڑھارہی ہے گر
دُھول چھٹنے والی ہے، رات کٹنے والی ہے
صُبح پھٹنے والی ہے
اِلتجائیں سُن لے گا، رب دُعائیں سُن لے گا
سب دُعائیں سُن لے گا
چاکِ دِل سِلے ہونگے، پھول بھی کِھلے ہونگے
خوشیوں کے میلے ہونگے
راستے کُھلے ہونگے، ختم فاصلے ہونگے
جوش و ولولےہونگے

چہرے چمکتے ہونگے، رنگ دمکتے ہونگے
دِل بھی دھڑکتے ہونگے
آئینگے، جائینگے پھر، ہاتھ مِلائینگے پھر
گلے لگائینگے پھر
جشن منائینگے پھر، جھولے جُھلائینگے پھر
جُھوم کے گائینگے پھر
سب سے مُحبت ہوگی، نفرت سے نفرت ہوگی
زندگی رحمت ہوگی
پاک سرزمیں ہوگی، کِشورِ حَسیں ہوگی
مرکزِ یقیں ہوگی۔

Comments are closed.