ھم غربت کے مارے

(حمیرہ نور)

ھم
گھروں میں کام کرتے ھیں
وہاں سے روزانہ
کبھی تازہ
کبھی روکھی سوکھی
روٹی ملتی رھتی ھے
کبھی کپژے
کبھی ٹوٹا پھوٹا سامان
کبھی خیرات زکوات
کبھی صدقہ کبھی کفارا
کبھی مالکن سے
کبھی مھمانوں سے خرچی
کبھی کچھ کبھی کچھ
ملتا رہتا ھے
کبھی کبھار ھم بھی
کچھ نا کچھ مانگ لیتے ھیں
اب تو اس برس
سارے راستے ویران
گلیاں سنسان
لوگ حیران پریشان
ھوگٸے ھیں
اس عجیب و غریب حالت میں
ھم غربت کے مارے لوگ
کہاں جاٸیں؟؟؟؟؟
کیا کریں؟؟؟؟؟
جو مالکن ھمیں
خوشی۔ غمی۔بیماری اور
عید برات پر بھی
چھٹی نہیں دیتی تھی کہ
(اتنا کام کون کرے گا)
اس بار اس نے
خود فون کر کے کہا کہ
کل سے کام پر نہیں آنا
ھم خود کام کریں گے۔

Comments are closed.