اللہ ہم شرمندہ ہیں

(ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ)

تیرے در پہ آج یہ گریہ کناں ہے زندگی
میرے مولا اب تو بس محو فغاں ہے زندگی

زمین رو رہی ہے اپنی بے بسی پہ آج کل
کہُ دیر اور حرم میں بھی اب فغاں ہے زندگی

اک ردائے خوف میں لپٹے ھوئے ھیں سب مکاں
مکیں سہم کے پوچھتے ہیں تو کہاں ہے زندگی

تو اپنے دل پہ ہاتھ رکھ اور اے بشر مجھ کو بتا
کہ اب سجود میں تجھے یہ کیوں گراں ہے زندگی

خدائے لم یزل کی رحمتوں سے مت ہو بد گماں
یقیں کی آنکھ سے پر ے تو بس گماں ہے زندگی

اپنے شعلوں میں ہی جل کے راکھ ہونے لگ گئی۔
اپنے ہی رد عمل سے اب دھواں ہے زندگی

کل تلک جو رقص فرما تھی لہو کی تال پر
رنجشوں کے قہر میں اب نوحہ خواں ہے زندگی

ہے آنکھ رت یہ ہجر کی، لبوں پہ تشنگی بہت
جو خاک کا بدن ہے اس میں تُو کہاں ہے زندگی

تماشہ ہے یہ آنکھ کا، یا دل کا بس فریب ہے
کہ بس زیاں کے کھیل میں ہی اب رائیگاں ہے زندگی

Comments are closed.