وحشت

(دانیال اسماعیل)

مرے مالک! یہ کیا پورے
جہاں کو اس وبا نے ایک دم اپنے
لپیٹے میں لیا جیسے
کہ سب گھڑیوں کی سوئیاں اک وبا کے ناخنوں میں ہوں!
کہ جب ناراض ہو جائے
ہمارا رب
کریں ہم کیا؟ کہاں جائیں؟ کسے دکھڑے سنائیں اب؟
ستارے زخم بنتے جا رہے ہیں اب
زمیں کا درد کوئی بھی نہیں سمجھا
پرندے چیخنے سے مر
گئے ،پیڑوں سے پتّے جھڑ
گئے سارے،
سمندر خامشی میں چھپ
گئے اور تشنگی صحرا کی بھی سمجھا نہیں کوئی
کہ جب تیرے
اشارے کاٹنے کی کوششوں میں ہاتھ سارے کٹ
گئے، بادل بھی واپس چھٹ
گئے اور لوگ بھی وحشت
سے اپنا ملک تنہا چھوڑ آئے ہیں
کوئی بھی تو نہیں سمجھا تری آواز کو مالک!
گھروں کی خامشی اندر
سے کھانے لگ گئی ہے اب
جہاں بھی روشنی تھی تیرگی سی ہو گئی ہے اب
وبا کا منھ کھلا تو سب ہی اندر آ
گئے ،یاں پر
کوئی سانسیں نہیں لیتا
یہاں انسان کی حالت
بہت بدتر ہے کیڑوں سے
کوئی زندہ نہیں ہے اب
سبھی گھڑیوں کی ساری سوئیاں رک سی گئی ہیں اب
یہاں سوکھے ہوئے دریا،
یہاں وحشت ہی وحشت سے بھری دنیا
گھروں میں خامشی، دنیا
میں اندھی تیرگی، بہتے
سمندر کا یوں رک جانا ،
پرندوں کی اڑانیں قید ہو جانا
خدا کے سب اشاروں میں فقط اک ہی اشارہ ہے

Comments are closed.