اب شہر مہرباں میں نہ کوئی دکھائی دے

(محمد علی ایاز)

اب شہر مہرباں میں نہ کوئی دکھائی دے
دھڑکن ہر ایک دل کی اگرچہ سنائی دے

کوئی مرض بھی ایسا نہ اس کو وبائی دے
مولا ترے حضور ہر انساں دہا ئی دے

اس خوف کی فضا سے ،خد اسب کو دے نجات
چہرہ ہر ایک شخص کا کھلتا دکھائی دے

جاری ہے رقص شہر کی گلیوں میں موت کا
ہر شخص گھر میں قید ہے ، مولا رہائی دے

ہر سمت کائنات کا منظر اداس ہے
خاموش ہر زبان کو نغمہ سرائی دے

اپنے حضورمیری دعاوں کو اے خدا
شرف قبولیت کی گھڑی تک رسائی دے

Comments are closed.