محسوس ہو رہا ہے اذہان ہی سے خطرہ

(خواجہ شاہین)

محسوس ہو رہا ہے اذہان ہی سے خطرہ
ہاتھوں میں پلنے والی سنتان ہی سے خطرہ

وہ وائرس بھی ڈھونڈو جس وائرس کے کارن
انسان کو ہے لاحق انسان ہی سے خطرہ

مہمان سے تھا خطرہ پہلے بھی میزباں کو
ہے میزباں کو اب بھی مہمان ہی سے خطرہ

بیگم میں اور غزل میں یہ قدر مشترک ہے
دونوں کو دائمی ہے اوزان ہی سے خطرہ

ْجی جانٗ، کہہ رہا ہُوں جس ّجانٗ کو جواباً
خواجہ مجھے ہے لاحق اُس جان ہی سے خطرہ

Comments are closed.