روز و شب زندگی میں ہے افسردگی

(محمد خالد خان)

روز و شب زندگی میں ہے افسردگی
گلشنِ دل میں چھاٸی ہے پژمردگی
ہر طرف اک قیامت کا سامان ہے
اک عجب وہم نے گھیر لی زندگی
ایک نادیدہ مخلوق کے خوف نے
ختم کر دی محبت کی وارفتگی
ربطِ باہم ترسنے لگا لمس کو
ایسی چھاٸی ہے کردار پر مردگی
اب تو ملنے ملانے سے بھی رہ گٸے
کب بشر کو بشر سے ہے وابستگی
رشتے ناطوں میں کچھ ربط باقی نہیں
بس دلوں میں ہے نفرت کی افزودگی
سجدہ گاہوں میں پہلے تو کچھ نقش تھے
اب ہر اک صف میں سجدوں کی ہے تشنگی
ایک اک بام سے ہیں اذانیں بلند
جانتے ہیں خدا کی ہے ناراضگی
منبروں پر ہے طاری عجب خامشی
کیسی ویرانیوں کی ہے افزودگی
اور کچھ لوگ اب بھی ہیں غافل پڑے
کچھ تفکر ہے گہرا نہ سنجیدگی
مرنے والوں کے غم میں فسردہ نہیں
ذرّہ بھر بھی نہیں دل میں رنجیدگی
فہم و ادراک سے ماورا لوگ ہیں
ختم ہوتی نہیں ان کی دیوانگی
ہر مصیبت کو کہتے رہے ہیں عذاب
پر نہیں دیکھی اعمال کی خستگی
قلبِ غافل! سنبھل جا، ابھی وقت ہے
ایسے حالات میں کر نہ دلبستگی
بارگاہِ خدا میں جھکا کر جبیں
التجاٶں، دعاٶں میں لا تازگی
رب جو راضی ہوا پھر نہیں غم کوٸی
ایک اک غم سے بخشے گا وارستگی
اے خدا! رنج و آلام کو دور کر
زندگانی کو دے پھر وہی زندگی
اس مناجاتِ خالد کو کر لے قبول
کر عطا گیتیءِ گل کو نورستگی

Comments are closed.